پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ: سیاسی رہنماؤں اور حکومتی وزراء کو تشویش

image

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ حکومتی وزراء نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، سیاسی و حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ عوام کے لیے شدید اذیت اور پریشانی کا سبب بن چکا ہے۔

حکومتی وزراء کے مطابق پیٹرول مہنگا ہونے کے اثرات صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے باعث روزمرہ استعمال کی اشیاء، کھانے پینے کی چیزیں، ٹرانسپورٹ کے کرائے، اشیائے خورد ونوش، سپلائی چین اور دیگر بنیادی ضروریات بھی مہنگی ہوجاتی ہیں، جس کا براہ راست بوجھ عام شہری پر پڑتا ہے۔

سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کنوینس اور پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ پہلے ہی شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرچکا ہے، جبکہ بازار میں مہنگائی کی نئی لہر نے عوام کی قوتِ خرید کو مزید کمزور کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومتی اور اپوزیشن شخصیات اس معاملے پر ایک پیج پر نظر آ رہی ہیں اور ان کا مشترکہ مؤقف ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں کے مطابق مقرر کی جائیں۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کی ایک نئی اور شدید لہر جنم لے سکتی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکومتی مجبوریاں اپنی جگہ، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے عام آدمی کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عام شہری پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں وہ زندگی کی بنیادی ضروریات کیسے پوری کرے گا؟

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کا بوجھ سب سے زیادہ غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق غریب آدمی مسلسل معاشی دباؤ برداشت کرتے کرتے مزید مشکلات میں گھرتا جا رہا ہے، جبکہ متوسط طبقہ بھی خطِ غربت کے قریب پہنچ چکا ہے۔

رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم قیمتوں پر نظرثانی کریں تاکہ مہنگائی کے مسلسل دباؤ میں پسی ہوئی عوام کو کچھ سہارا مل سکے۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں فی بیرل خام تیل کی قیمتوں میں کمی یا استحکام موجود ہے تو اس کا فائدہ براہ راست پاکستانی عوام تک پہنچنا چاہیے، نہ کہ اضافی مالی بوجھ مسلسل شہریوں پر منتقل کیا جائے۔

ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے اثرات معیشت کے ہر شعبے پر پڑتے ہیں، خصوصاً ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، اشیائے خور ونوش اور شہری زندگی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

عوامی و سیاسی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین شفاف، منصفانہ اور عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق کیا جائے تاکہ ملک میں مہنگائی کے طوفان کو کسی حد تک قابو میں لایا جا سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US