پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کراچی پریس کلب پر مہنگائی کے خلاف احتجاج کے دوران کارکنان کے مبینہ پتھراؤ سے کئی پولیس اہلکار زخمی ہوگئے، پولیس نے لاٹھی چارج، شیلنگ کرتے ہوئے کئی کارکنان کو حراست میں لے کر مختلف تھانہ جات منتقل کردیا۔
پی ٹی آئی کراچی ڈویژن نے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور کارکنان کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان پی ٹی آئی کراچی کے مطابق پرامن سیاسی سرگرمی ہر شہری کا آئینی حق ہے، مگر موجودہ سندھ حکومت نے ایک بار پھر جمہوری اقدار کو پامال کرتے ہوئے عوام کی آواز دبانے کی کوشش کی ہے۔
پی ٹی آئی کراچی کے مطابق احتجاج کے دوران دوا خان صابر، زمان آفریدی، ماسٹر صفا، داؤد، بلال مسعود، نور علی اور شاکر خان سمیت کئی کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کارکنان جن میں فضہ ذیشان، زبیدہ شکیل، ایڈوکیٹ نجمہ اعوان اور صائمہ شامل ہیں، انہیں بھی پولیس نے حراست میں لیا ہے۔
پی ٹی آئی کراچی ڈویژن نے اس اقدام کو غیر قانونی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف کو طاقت کے ذریعے دبانا کسی صورت قبول نہیں، سندھ حکومت ہوش کے ناخن لے اور جمہوری روایات کا احترام کرے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے کارکنان اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی۔
دوسری جانب ایس ایس پی ساوتھ مہزور علی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے اجازت کے بغیر احتجاج کیا اور اس دوران پی ٹی آئی کے کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ پولیس نے جوابی طور پر شیلنگ کی اور 15 سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے زیر حراست کارکنان کے خلاف پولیس پر حملے، ریاست مخالف نعرے ودیگر دفعات کے تحت قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔