امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے ایک گروپ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے لیے اہم بات چیت جاری ہے جس کے تحت 45 روزہ سیز فائر پر غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدہ دو مرحلوں پر مشتمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں 45 دن کی عارضی جنگ بندی کی جائے گی جس کے دوران فریقین کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے اور اعتماد سازی کے اقدامات بھی زیر غور آئیں گے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
دوسرے مرحلے میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ایک باضابطہ معاہدہ طے پانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر مذاکرات کو مزید وقت درکار ہوا تو عارضی جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں کے دوران کسی حتمی یا بڑے معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں تاہم یہ سفارتی کوشش جنگ میں مزید شدت کو روکنے کا ایک اہم اور ممکنہ طور پر آخری موقع سمجھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا جس کے باعث صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے۔