بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ایک خاتون نے شوہر اور سسرال والوں پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس پر شوہر کو گردہ عطیہ کرنے یا 30 لاکھ روپے لانے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
<1p>
واقعے کے بعد پولیس نے جہیز کے لیے ہراساں کرنے اور مبینہ دھوکہ دہی کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
<1p>
میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاتون نے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا کہ اس کی شادی 22 جون 2023 کو لکھنؤ کے رہائشی شخص سے ہوئی تھی۔ خاتون کے مطابق شادی کے وقت اس کے اہل خانہ نے زیورات، نقد رقم اور ایک گاڑی سمیت مختلف تحائف دیے تاہم شادی کے بعد سسرال میں اسے غیر معمولی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
<1p>
خاتون کا کہنا ہے کہ شادی سے قبل شوہر کی صحت کے بارے میں اہم معلومات چھپائی گئیں۔ بعد ازاں اسے معلوم ہوا کہ اس کا شوہر روزانہ متعدد ادویات استعمال کرتا ہے اور گھر والوں نے اسے صرف ہائی بلڈ پریشر کا مریض بتایا تھا۔ شکایت کے مطابق بعد میں سامنے آیا کہ شوہر کے گردوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور وہ ڈائیلاسز پر ہے۔
<1p>
متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ جب اس نے میڈیکل ریکارڈ کے بارے میں سوال اٹھایا تو سسرال والوں نے اس کے سامنے دو آپشن رکھے۔ ایک یہ کہ وہ اپنے میکے سے 30 لاکھ روپے کا بندوبست کرے یا پھر شوہر کو اپنا ایک گردہ عطیہ کرے۔ خاتون کے مطابق اس مطالبے کے ساتھ ذہنی دباؤ اور ہراسانی بھی جاری رہی۔
<1p>
شکایت میں یہ بھی کہا گیا کہ خاتون کو بعد میں شوہر کے پرانے میڈیکل ریکارڈ تک رسائی ملی جس میں گردوں کی خرابی اور علاج سے متعلق تفصیلات درج تھیں۔ خاتون نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے کو شادی سے قبل جان بوجھ کر چھپایا گیا۔
<1p>
پولیس حکام کے مطابق مقدمہ درج کر کے معاملے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران تمام متعلقہ فریقین کے بیانات قلم بند کیے جائیں گے اور حقائق سامنے آنے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
<1p>