فرانس کے ایک دیہی علاقے کے پرائمری اسکول میں طلبہ کی کم تعداد کے باعث کلاس بند ہونے کے خدشے کے پیش نظر ایک منفرد اور دلچسپ اقدام سامنے آیا، جہاں پانچ گائیوں کو علامتی طور پر اسکول میں داخلہ دے دیا گیا۔ اس غیر معمولی فیصلے نے مقامی افراد کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا اور سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کو خاصی توجہ حاصل ہوئی۔
<1p>
رپورٹس کے مطابق گاؤں موش کے پرائمری اسکول کی ایک کلاس میں صرف چھ بچے زیر تعلیم تھے جبکہ تعلیمی حکام کی جانب سے کم حاضری کی بنیاد پر کلاس ختم کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں نہ صرف بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ تھا بلکہ گاؤں میں تعلیمی سہولت مزید محدود ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا تھا۔
<1p>
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے گاؤں کے میئر اور مقامی افراد نے علامتی احتجاج کا انوکھا طریقہ اختیار کیا۔ ایک مقامی کسان کی پانچ گائیوں کو اسکول میں داخل کر دیا گیا تاکہ طلبہ کی تعداد بڑھانے کی علامتی کوشش کی جا سکے اور حکام کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کرائی جائے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ معمولی تعداد کی کمی کی بنیاد پر کلاس بند کرنا دیہی علاقوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
<1p>
مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ صرف چند بچوں کی کمی پر پوری کلاس ختم کرنا مناسب نہیں کیونکہ دیہی علاقوں میں پہلے ہی تعلیمی سہولیات محدود ہوتی ہیں۔ گاؤں کے رہائشیوں نے بھی اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کلاس کو برقرار رکھا جائے تاکہ بچوں کو اپنے ہی علاقے میں تعلیم جاری رکھنے کا موقع مل سکے۔
<1p>
یہ غیر معمولی علامتی داخلہ دراصل دیہی اسکولوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جہاں کم آبادی کے باعث تعلیمی اداروں کی بقا اکثر خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ اسکول کو فعال رکھنے کے لیے آئندہ بھی ایسی کوششیں جاری رکھیں گے۔
<1p>