امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی مستقل امن نہیں بلکہ ایک وقفہ ہے، اور امریکی افواج اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ کارروائی کیلیے مکمل طور پر تیار ہیں، تاہم امید ہے کہ دوبارہ لڑائی کی نوبت نہیں آئے گی۔
پریس بریفنگ کے دوران جنرل ڈین کین نے کہا کہ 38 روزہ جنگ کے دوران امریکا نے اپنے تمام عسکری مقاصد حاصل کرلیے۔ ان کے مطابق ”آپریشن ایپک فیوری“ کے تین بنیادی اہداف تھے، جن میں ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو تباہ کرنا، ایرانی بحریہ کو ناکارہ بنانا اور دفاعی صنعت کو شدید نقصان پہنچانا شامل تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کی 90 فیصد دفاعی فیکٹریوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ شہید ڈرونز بنانے والی تمام فیکٹریاں تباہ کر دی گئیں۔ جنرل ڈین کین کے مطابق امریکی حملوں سے ایران کی 80 فیصد جوہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آپریشن کے دوران 18 مرتبہ امریکی جنگی طیارے امریکا سے اڑے، بمباری کی اور 30 گھنٹے بعد واپس بیس پہنچے۔ ان کے مطابق آپریشن ایپک فیوری میں مجموعی طور پر 13 ہزار حملے کیے گئے جبکہ 1500 ایرانی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا گیا۔
جنرل ڈین کین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے زیادہ تر اثاثے تباہ ہوچکے ہیں اور 150 سے زائد جنگی بحری جہاز سمندر میں ڈوب چکے ہیں۔
امریکی فوجی قیادت کے اس بیان کو خطے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار رہنے کا واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے اس نوعیت کے سخت بیانات ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہوسکتے ہیں۔