یہ بچہ کس ملک کا ہے؟ پرواز کے دوران بچے کی پیدائش پر شہریت کے تعین پر قانونی بحث چھڑ گئی

image

نیویارک جانے والی ایک بین الاقوامی پرواز میں دورانِ سفر بچے کی پیدائش کے واقعے نے نہ صرف مسافروں کو حیران کر دیا بلکہ نومولود کی شہریت کے تعین کے حوالے سے بھی ایک دلچسپ اور پیچیدہ قانونی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

کیریبین ملک جمیکا کے دارالحکومت کنگسٹن سے امریکی شہر نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہونے والی ایک پرواز میں غیر متوقع طور پر ایک خاتون مسافر کے ہاں بچے کی پیدائش ہوگئی۔ یوں جب طیارہ اپنی منزل پر پہنچا تو مسافروں کی تعداد میں ایک نئے فرد کا اضافہ ہو چکا تھا۔

فضائی کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پرواز کے دوران ایک ہنگامی طبی صورتحال پیش آئی، تاہم عملے کی پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت اقدامات کے باعث خاتون نے بحفاظت بچے کو جنم دیا۔ نیویارک پہنچنے پر طبی ماہرین نے ماں اور نومولود کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں ضروری طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔

بیان میں نومولود کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ بچے کی پیدائش پرواز کے کس مرحلے میں ہوئی تاہم پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کے درمیان ہونے والی گفتگو سے عندیہ ملا کہ ممکنہ طور پر نومولود لڑکا ہے اور ماں نے اس کا نام "کینیڈی" رکھا ہے۔

اس واقعے کے بعد سب سے اہم سوال نومولود کی شہریت کے تعین کا سامنے آیا ہے، جو تاحال غیر واضح ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا انحصار متعدد عوامل پر ہوگا، جن میں والدین کی شہریت، پیدائش کے وقت طیارے کا جغرافیائی محل وقوع اور متعلقہ ممالک کے قوانین شامل ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچے کے والدین میں سے کوئی ایک امریکی شہری ہو تو بچے کو امریکی شہریت حاصل ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر اگر پیدائش امریکی فضائی حدود میں ہوئی ہو تو بھی امریکی قوانین کے تحت شہریت ملنے کا امکان موجود ہے تاہم اس کے لیے طیارے کی میڈیکل لاگ، پائلٹ کی رپورٹ، پیدائش کا درست وقت اور اس وقت طیارے کے مقام سے متعلق مستند دستاویزات درکار ہوتے ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکی آئین کے تحت امریکی سرزمین یا حدود میں پیدا ہونے والے افراد کو شہریت دی جاتی ہے تاہم اس حوالے سے حالیہ برسوں میں قانونی پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری ایک صدارتی حکم نامے میں شہریت کے قوانین میں تبدیلی کی کوشش کی گئی تھی جسے بعد ازاں ایک وفاقی عدالت نے معطل کر دیا تھا، جبکہ اس معاملے پر اعلیٰ عدالتی سطح پر سماعت جاری ہے۔

دوسری جانب ہوا بازی کے قواعد کے مطابق عام طور پر ایسی حاملہ خواتین کو سفر کی اجازت نہیں دی جاتی جن کے حمل کی مدت 36 ہفتوں سے تجاوز کر چکی ہو۔ 28 ہفتوں کے بعد سفر کے لیے بھی طبی سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا جاتا ہے تاکہ کسی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔

فضائی کمپنی کے مطابق اس واقعے کے دوران پرواز کو ہنگامی طور پر کہیں اتارنے کی ضرورت پیش نہیں آئی اور تمام صورتحال کو پرواز کے اندر ہی سنبھال لیا گیا۔ خاتون مسافر نے اپنی اور بچے کی نجی معلومات کو خفیہ رکھنے کی درخواست بھی کی ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک غیر معمولی فضائی تجربہ قرار دیا جا رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر شہریت کے قوانین اور ان کی عملی پیچیدگیوں پر بھی نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US