ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا فیصلہ کن اور سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صدر پزشکیان نے جنوبی ایران میں واقع لاوان آئل ریفائنری پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کو بلا جواب نہیں چھوڑا جائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران لبنان کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور لبنان میں جاری اسرائیلی حملے موجودہ جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی زور دیا کہ لبنان اس جنگ بندی کا اہم حصہ ہے اور اسے تحفظ فراہم کرنا بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ کیے گئے تو دشمن کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادھر ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے رکن محسن رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اپنی پوری طاقت کے ساتھ حزب اللہ کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جنگ بندی ختم ہوئی یا صورتحال دوبارہ کشیدہ ہوئی تو اس کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔