امریکی خاتونِ اول میلینا ٹرمپ نے بدنام زمانہ فنانسر Jeffrey Epstein سے کسی بھی قسم کے تعلق کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے متعلق جھوٹے الزامات فوری طور پر بند کیے جائیں۔
وائٹ ہاؤس میں صدارتی مہر کے سامنے بیان دیتے ہوئے میلینیا ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ نہ تو ایپسٹین کی متاثرہ ہیں اور نہ ہی ان کا اس سے کوئی ذاتی تعلق رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو بھی مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایپسٹین نے ان کی ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ سے کروائی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ 1998 میں نیویارک میں ایک تقریب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے ملیں، جبکہ ایپسٹین سے ان کی ملاقات اس کے دو سال بعد ایک الگ موقع پر ہوئی۔
میلینیا ٹرمپ نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ ایپسٹین کیس کے متاثرین کو عوامی سماعتوں میں حلف کے تحت اپنے بیانات دینے کا موقع دیا جائے تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔
انہوں نے کہا، ”میرے خلاف ایپسٹین سے متعلق پھیلائے گئے جھوٹ آج ہی ختم ہونے چاہئیں۔ میں ایپسٹین کی متاثرہ نہیں ہوں۔“
ان کا یہ غیر معمولی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایپسٹین کیس ایک بار پھر خبروں کی زینت بن رہا ہے اور اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست پر بھی اثر ڈالا ہے۔ ایپسٹین، جو کئی معروف شخصیات سے روابط رکھتا تھا، 2000 کی دہائی کے اوائل میں ٹرمپ سے علیحدہ ہو گیا تھا۔
ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اٹارنی جنرل Pam Bondi کو برطرف کیا، جس کی وجہ ایپسٹین سے متعلق سرکاری دستاویزات کی سست رفتار سے فراہمی پر تنقید بتائی جا رہی ہے۔
میلینیا ٹرمپ کے مشیر مارک بیک مین کے مطابق خاتونِ اول نے اب اس لیے بات کی کیونکہ ”اب بہت ہو چکا، جھوٹ بند ہونا چاہیے۔“
ماہرین کے مطابق کسی خاتونِ اول کی جانب سے اس نوعیت کے تنازع پر اس انداز میں براہِ راست بیان دینا غیر معمولی اقدام ہے، جو اس معاملے کو مزید نمایاں کر سکتا ہے۔