امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر دوبارہ کھولنے میں اس لیے مشکلات کا شکار ہے کیونکہ اسے مبینہ بارودی بحری سرنگوں کے درست مقامات کا مکمل علم نہیں ہے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ سرنگوں کی غیر منظم تنصیب اور درست نقشہ سازی نہ ہونے کے باعث انہیں ہٹانے کا عمل پیچیدہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں اہم عالمی بحری گزرگاہ کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کشیدگی کے آغاز کے بعد چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی گئیں جس کے بعد تیل بردار جہازوں اور دیگر تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
اس صورتحال کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ خطے میں بحری تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک محدود راستہ کھلا رکھا ہے جہاں بعض جہازوں کو مخصوص شرائط کے تحت گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق بعض سرنگیں پانی کی لہروں کے باعث اپنی جگہ سے سرکنے یا بہہ جانے کے خدشے کے باعث مزید خطرناک صورتحال پیدا کر رہی ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق زمینی سرنگوں کی طرح بحری سرنگوں کو ہٹانا بھی انتہائی پیچیدہ عمل ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود اس کے لیے خصوصی آپریشنز درکار ہوتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے کو جنگ بندی سے مشروط کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی فوری اور محفوظ بحالی کا مطالبہ کیا ہے