اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں نیتن یاہو نے ترک صدر پر ایران کی سہولت کاری کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ صدر اردوان کردوں کے قتل عام میں ملوث ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کسی دباؤ میں آئے بغیر ایران اور اس کے حامی گروہوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے گا اور اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
دوسری جانب ترک صدارتی دفتر کے شعبہ مواصلات کے سربراہ برہان الدین دوران نے اسرائیلی وزیراعظم کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو غزہ میں جاری نسل کشی اور خطے کے سات ممالک پر حملوں کے ذمہ دار ہیں اور اب وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے ترک صدر کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
ترک حکام نے مزید کہا کہ نیتن یاہو ایک تسلیم شدہ مجرم ہیں جن کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں اور وہ دوسروں کو درس دینے کی اخلاقی یا قانونی حیثیت کھو چکے ہیں۔ بیان میں اس یقین کا اظہار کیا گیا کہ نیتن یاہو کو بالآخر انسانیت کے خلاف جرائم پر احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔