ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی سمندری راستوں پر پابندی کی دھمکی امریکا کے لیے معاشی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے خصوصاً تیل کی قیمتوں کے حوالے سے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران سے منسلک بحری آمد و رفت پر ناکہ بندی آج رات سے شروع کی جا رہی ہے، جس سے خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں قالیباف نے امریکی انتباہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور اس کا سب سے زیادہ اثر امریکی عوام پر پڑے گا۔
انہوں نے پیٹرول کی قیمتوں سے متعلق ایک تصویر بھی شیئر کی اور خبردار کیا کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو امریکا میں فی گیلن قیمتیں 4 سے 5 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
قالیباف کے پیغام میں ایک علامتی مساوات بھی شامل تھی جسے سوشل میڈیا صارفین نے سمندری راستوں پر دباؤ اور عالمی توانائی مارکیٹ کے ردعمل کی تشریح کے طور پر دیکھا۔ اس میں آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کے اثرات کو تیل کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔