امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کردی ہیں، جن کے تحت محاصرے اور پابندیوں کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اسے خلیج عمان اور بحیرہ عرب تک پھیلا دیا گیا ہے۔
ان ہدایات کے مطابق ممنوعہ سمندری حدود میں کسی بھی جہاز کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی اور یہ پابندیاں تمام ممالک کے پرچم بردار جہازوں پر یکساں طور پر لاگو ہوں گی۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر جانبدار جہازوں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی ترسیلات کو بھی سخت معائنے اور جانچ پڑتال کے بعد ہی آمد و رفت کی اجازت دی جائے گی۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر عالمی تشویش، مختلف ممالک کا ردعمل
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
روسی صدارتی دفتر نے خبردار کیا ہے کہ اس گزرگاہ کی بندش سے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے برطانیہ کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ امن مشن تشکیل دینے کی تجویز دی ہے تاکہ بحری تجارت کو بحال رکھا جاسکے۔
چین اور ترکی نے بھی فریقین سے صبر و تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔
یورپی کمیشن کے صدر نے آزادانہ جہاز رانی کو عالمی ذمہ داری قرار دیا ہے۔
اس وقت عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔