پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر دی ہے جس کے تحت بات چیت اسلام آباد میں کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستانی حکام نے سیز فائر کی مدت ختم ہونے سے قبل مذاکرات منعقد کرنے کی پیشکش کی ہے تاکہ فریقین کے درمیان پیشرفت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ ممکنہ طور پر جمعرات کو ہو سکتا ہے جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے بھی عندیہ دیا ہے کہ دونوں ممالک نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان رابطے اور مذاکراتی عمل بدستور جاری ہے اور معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیشرفت ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا جہاں وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک بات چیت جاری رہی تاہم کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی گئی ہیں۔
دوسری جانب مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران ایک منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے جبکہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے زور دیا ہے کہ نئی جنگ کو روکنا ضروری ہے اور اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں روس تصفیے میں مدد کے لیے تیار ہے۔