چین میں ایک اہم سفارتی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں سینئر سفارتکار سن ویڈونگ کو اچانک نائب وزیر خارجہ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
چین کی وزارتِ انسانی وسائل کی جانب سے جاری ایک مختصر بیان میں برطرفی کی تصدیق کی گئی، تاہم بیان میں اس فیصلے کی وجوہات یا وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ وزارت کے مطابق یہ فیصلہ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر کیا گیا۔
چینی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق سن ویڈونگ کی آخری نمایاں سرگرمیاں 13 مارچ کو ریکارڈ کی گئیں، جب انہوں نے چین میں تعینات برونائی اور ملائیشیا کے سفیروں سے ملاقات کی۔ اس سے دو روز قبل وہ پاکستان کے سفیر سے دوطرفہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کرچکے تھے۔
دوسری جانب چین میں بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے اعداد و شمار بھی سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ سال ایک ملین سے زائد کرپشن کیسز کی تحقیقات کی گئیں جبکہ 9 لاکھ 38 ہزار افراد کو مختلف سزائیں دی گئیں۔
سالانہ رپورٹ کے مطابق تادیبی کارروائیوں میں 69 اعلیٰ سطح کے صوبائی یا وزارتی عہدیداران، 4155 بیورو سطح کے افسران، 35 ہزار ضلعی اہلکار اور ایک لاکھ 25 ہزار سے زائد مقامی سطح کے افسران شامل تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سن ویڈونگ کی برطرفی اور ملک میں جاری سخت احتسابی مہم کو ایک وسیع تر حکومتی پالیسی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم حکام کی جانب سے اس معاملے پر مزید وضاحت کا انتظار ہے۔