برطانوی اخبار فنانشنل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ایک چینی سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی کی اور بعض مقامات کو نشانہ بنانے سے قبل ان کی معلومات حاصل کیں۔
رپورٹ کے مطابق 2024 کے اواخر میں چینی سیٹلائٹ TEE-01B ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے حوالے کیا گیا جسے بعد ازاں حساس فوجی اور اسٹریٹجک تنصیبات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا گیا۔
فنانشنل ٹائمز کا کہنا ہے کہ ایرانی فوجی کمانڈرز نے اس سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں اہم امریکی اور اتحادی فوجی تنصیبات کی تصاویر حاصل کیں، جن میں ڈرون اور میزائل حملوں سے قبل اور بعد کی صورتحال کا تجزیہ بھی شامل تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیٹلائٹ نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کی 13 سے 15 مارچ کے دوران تصاویر حاصل کیں جبکہ اسی عرصے میں خطے میں امریکی تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ نگرانی کے دائرے میں اردن کا موافق السالتی ایئر بیس، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے قریب علاقے، عراق کا اربیل ایئرپورٹ، کویت کے کیمپ بیوہرنگ اور علی السالم ایئر بیس، جبوتی کا کیمپ لیمونئیر اور عمان کا دقم ایئرپورٹ شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں شہری انفراسٹرکچر بشمول متحدہ عرب امارات کی خورفکن بندرگاہ، قیدفہ پاور اور ڈی سیلینیشن پلانٹ، اور بحرین کی البا ایلومینیم فیکٹری کی بھی نگرانی کی گئی۔
فنانشنل ٹائمز کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیٹلائٹ کی ہائی ریزولوشن صلاحیت تقریباً نصف میٹر تک ہے جو اہداف کی واضح شناخت اور فوجی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرتی ہے جبکہ ایران کا سابقہ سیٹلائٹ نور-3 صرف پانچ میٹر ریزولوشن رکھتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے لیے ایران نے تقریباً 36.6 ملین ڈالر ادا کیے جس میں سیٹلائٹ، لانچنگ، تکنیکی معاونت اور ڈیٹا انفراسٹرکچر شامل تھے۔
چینی کمپنیوں Earth Eye Co اور Emposat نے اس سیٹلائٹ اور گراؤنڈ نیٹ ورک کی فراہمی میں کردار ادا کیا جس سے عالمی سطح پر ڈیٹا کنٹرول ممکن ہوا۔
دوسری جانب چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ کی مخالفت کرتا ہے اور ہمیشہ امن کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔