آبنائے ہرمز کے بعد آبنائے ملاکا عالمی توجہ کا مرکز بن گئی

image

مشرقِ وسطیٰ میں آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے ساتھ ساتھ اب آبنائے ملاکا بھی عالمی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے جہاں امریکا اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کے ایک نئے معاہدے کے بعد خطے میں اسٹریٹجک تبدیلیوں پر بحث شروع ہو گئی ہے۔

بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور انڈونیشیا کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت امریکی فوجی طیاروں کو انڈونیشیا کی فضائی حدود میں زیادہ رسائی ملے گی جس سے آبنائے ملاکا میں نگرانی اور عسکری موجودگی میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔

آبنائے ملاکا انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کے درمیان واقع دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے خصوصاً تیل، الیکٹرانکس اور صنعتی سامان کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اپنی توانائی کی بڑی درآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتا ہے جسے بیجنگ میں ملاکا مخمصہ (Malacca Dilemma) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

امریکا اگرچہ اس راستے پر براہِ راست معاشی انحصار نہیں رکھتا تاہم اسے فوجی اور اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم سمجھتا ہے کیونکہ اس کی تنگ گزرگاہ کسی بھی ممکنہ تنازع میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت بھی اس خطے کو اپنی اسٹریٹجک پالیسی کے تحت اہم سمجھتا ہے اور انڈمان و نکوبار جزائر کی جغرافیائی حیثیت اسے اس بحری راستے پر نگرانی کا قدرتی موقع فراہم کرتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں چین کے اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے امریکا اور بھارت کے درمیان دفاعی تعاون مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ملاکا میں کسی بھی امریکی عسکری کردار کو مقامی سطح پر حساسیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ انڈونیشیا اور ملائیشیا اپنی خودمختاری کے معاملے پر محتاط ہیں جبکہ سنگاپور اپنی بندرگاہی معیشت کے باعث استحکام کو ترجیح دیتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US