عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے سعودی عرب سے پاکستانی محنت کشوں کی بڑے پیمانے پر واپسی کے معاملے پر سینیٹ میں تحریک التواء جمع کرا دی ہے۔
تحریک التواء میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس اہم مسئلے پر بحث کے لیے ایوان کی معمول کی کارروائی مؤخر کی جائے۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ حالیہ دنوں میں سعودی عرب میں مقیم بڑی تعداد میں پاکستانی محنت کشوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے، جو نہایت تشویشناک ہے، خصوصاً اس صورت میں جب ان کے ویزے اور دیگر قانونی تقاضے مکمل تھے۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک کام کرنے والے یہ محنت کش نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور قیمتی زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں۔ ان کی اچانک واپسی سے جہاں ہزاروں خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں، وہیں ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
تحریک میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر یہ افراد قانونی طور پر مقیم تھے تو انہیں کس بنیاد پر واپس بھیجا جا رہا ہے، اور اس حوالے سے حکومت پاکستان کی سفارتی سطح پر کیا اقدامات ہیں۔
اے این پی رہنما نے کہا کہ اس صورتحال سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، سعودی حکام سے فوری سفارتی رابطہ کیا جائے، اور مسئلے کا حل نکالا جائے۔
تحریک التواء میں مزید کہا گیا ہے کہ واپس آنے والے محنت کشوں کے لیے فوری ریلیف، روزگار اور بحالی کے اقدامات کیے جائیں، جبکہ ایوان کو اس اہم معاملے پر تفصیلی بریفنگ بھی فراہم کی جائے۔
سینیٹر ایمل ولی خان کے مطابق یہ معاملہ لاکھوں پاکستانی خاندانوں کے روزگار اور ملکی معیشت سے جڑا ہوا ہے، اس لیے فوری اور سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔