بیجنگ: چین کے صوبے گانسو کے علاقے بائی یِن سے تعلق رکھنے والی 81 سالہ وانگ یوشی کی زندگی کی داستان دنیا بھر میں انسانی حوصلے کی ایک غیر معمولی مثال کے طور پر سامنے آئی ہے، جہاں پیدائشی طور پر ہاتھوں اور پیروں سے محروم ہونے کے باوجود انہوں نے نہ صرف زندگی کی سختیاں برداشت کیں بلکہ اپنے تین بچوں کی تنہا پرورش بھی کی۔
وانگ یوشی پیدائشی طور پر معذوری کا شکار تھیں اور طویل عرصے تک ان کے پاس باقاعدہ کوئی نام بھی موجود نہیں تھا۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق انہوں نے تقریباً 27 سال کی عمر میں شادی کی جس کے بعد ان کا نام وانگ یوشی رکھا گیا۔ ان کے تین بچے ہیں، جن میں ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔
وانگ یوشی کے بیٹے زینگ لائی ہو کے مطابق ان کی والدہ نے انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزاری، جہاں ان کے شوہر زیادہ تر وقت روزگار کے سلسلے میں گھر سے باہر رہتے تھے، جبکہ گھر اور بچوں کی تمام ذمہ داریاں وانگ یوشی نے خود سنبھالیں۔
معذوری کے باوجود انہوں نے گھریلو کاموں کو اپنے منفرد انداز میں سرانجام دیا۔ وہ کپڑے دھونے، کھانا پکانے اور صفائی ستھرائی جیسے کام انتہائی ہمت اور مہارت سے کرتی تھیں۔
کھانا پکانے کے لیے وہ اپنے جسم کو ایک اسٹول کے ذریعے سہارا دیتیں، آٹا گوندھنے اور سبزیاں کاٹنے جیسے کام منہ کی مدد سے انجام دیتیں جبکہ کپڑوں کی سلائی بھی وہ اسی طریقے سے مکمل کرتی تھیں۔
ان کے بیٹے کے مطابق وانگ یوشی کھانا کھانے کے لیے چوپ اسٹکس کو اپنی کہنیوں کے درمیان دبا کر استعمال کرتی تھیں، جو ان کی غیر معمولی خودمختاری اور عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ نے تمام مشکلات کے باوجود کبھی شکایت نہیں کی اور ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کے بچے بھوکے نہ سوئیں۔
وانگ یوشی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی زندگی انتہائی مشکل رہی لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور اپنی ذمہ داریوں کو پوری دیانت داری سے نبھایا۔
موجودہ وقت میں ان کے تینوں بچے شادی شدہ ہیں اور اپنے اپنے خاندانوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ان کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔ وانگ یوشی اس وقت اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے ساتھ مقیم ہیں۔
عمر رسیدگی کے باعث انہیں ہائی بلڈ پریشر جیسے مسائل کا سامنا ضرور ہے، تاہم مجموعی طور پر ان کی صحت تسلی بخش قرار دی جا رہی ہے۔
ان کی کہانی نے نہ صرف چین بلکہ دنیا بھر کے سوشل میڈیا صارفین کو متاثر کیا ہے اور انہیں ایک ناقابلِ شکست ماں کے طور پر خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے جنہوں نے معذوری کے باوجود حوصلے اور قربانی کی ایک نئی مثال قائم کی۔