انسانیت کی جیت! 16 کروڑ روپے کا انجکشن لگنے سے ننھی جان بچ گئی

image

بھارت میں ایک کمسن بچی کو نایاب بیماری سے بچانے کے لیے 16 کروڑ روپے مالیت کا انتہائی مہنگا انجکشن لگا دیا گیا جسے انسان دوستی اور اجتماعی کاوشوں کی ایک شاندار مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بچی ایک خطرناک جینیاتی عارضے میں مبتلا تھی جس کے علاج کے لیے فوری طور پر مخصوص انجکشن درکار تھا تاہم اس کی قیمت انتہائی زیادہ ہونے کے باعث والدین کے لیے اس کا حصول ممکن نہیں تھا۔ ایسے میں عوامی ہمدردی اور مشترکہ کوششوں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔

بتایا گیا ہے کہ بچی کواسپائنل مسکولر ایٹروفی نامی بیماری لاحق تھی، جو پٹھوں کی طاقت اور جسمانی حرکت کو بری طرح متاثر کرتی ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اس مرض کے علاج کے لیے جو انجکشن استعمال کیا گیا وہ دنیا کے مہنگے ترین علاجوں میں شمار ہوتا ہے۔

بچی کے والدین کے مطابق پیدائش کے چند ماہ بعد ہی انہوں نے بیٹی کی حرکات میں غیر معمولی کمی محسوس کی، جس کے بعد طبی معائنے سے بیماری کی تشخیص ہوئی۔ اس خبر نے خاندان کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا تاہم ڈاکٹروں نے امید دلائی کہ اگر بروقت انجکشن لگا دیا جائے تو بچی کی زندگی بچائی جا سکتی ہے۔

اس مقصد کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا گیا جس میں عوام سے مالی تعاون کی اپیل کی گئی۔ یہ مہم دیکھتے ہی دیکھتے وسیع پیمانے پر پھیل گئی اور ملک بھر سے مخیر حضرات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ عطیات کی صورت میں بڑی رقم جمع ہو گئی، جبکہ باقی رقم کے لیے بھی مختلف سطح پر کوششیں جاری رہیں۔

بالآخر حکومتی سطح پر بھی تعاون فراہم کیا گیا اور بیرون ملک سے یہ قیمتی انجکشن منگوا کر بچی کو بروقت لگا دیا گیا۔ اس کامیابی پر نہ صرف اہل خانہ نے سکھ کا سانس لیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی خوشی اور مسرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بیماری میں ابتدائی مرحلے میں علاج نہایت اہم ہوتا ہے اور بروقت مداخلت سے نہ صرف جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ بچے کے معیارِ زندگی میں بھی نمایاں بہتری ممکن ہوتی ہے۔

یہ واقعہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جب انسانیت، ہمدردی اور مشترکہ کوششیں یکجا ہو جائیں تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی عبور کیا جا سکتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US