پاکستان کی غیرمعمولی سفارتکاری کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کل اسلام آباد میں متوقع ہیں، جہاں دونوں ممالک کے وفود ایک بار پھر بات چیت کی میز پر بیٹھیں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں تین رکنی وفد اسلام آباد پہنچے گا، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ بریک تھرو کے لیے امید کا اظہار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کا وقت بدھ کی شام ختم ہو رہا ہے اور اس میں توسیع کا امکان نہیں، معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کیے جائیں گے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو ایران مکمل طور پر تیار ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد بھی متوقع ہے اور ایک سینئر عہدیدار نے مذاکرات میں شرکت پر غور کی تصدیق کی ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے دارالحکومت میں غیرمعمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس سمیت 18 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ ریڈ زون میں داخلہ محدود کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ریڈ زون میں واقع تعلیمی ادارے اور دفاتر آج بھی بند رکھے گئے ہیں۔