آبنائے ہرمز کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں سیمی کنڈکٹر چپس کی بڑھتی طلب کے باعث تیزی دیکھنے میں آئی۔
بین الاقوامی توانائی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کمی ہوئی۔ امریکی خام تیل 1.6 فیصد کمی کے بعد 85 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ برینٹ کروڈ 1.3 فیصد گر کر 94 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی خدشات ہیں، جو اہم بحری راستوں اور ترسیل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جہاں سیمی کنڈکٹر چپس کی مضبوط طلب نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا۔ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں 2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تائیوان کا بینچ مارک انڈیکس 1.8 فیصد بڑھ کر ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔
اسی طرح جاپان اور ہانگ کانگ کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی کاروبار کے دوران مثبت رجحان دیکھا گیا۔