جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں لبنانی صحافی امل خلیل شہید جبکہ ایک اور خاتون صحافی زینب فرج شدید زخمی ہو گئی ہیں۔
لبنانی حکام کے مطابق بدھ کے روز ہونے والے اس حملے میں امل خلیل، جو لبنانی اخبار الاخبار سے وابستہ تھیں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار گئیں۔ نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق مارچ کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والی وہ چوتھی میڈیا ورکر ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت اور سرکاری میڈیا کے مطابق ایک اور صحافی زینب فرج اس وقت زخمی ہوئیں جب امدادی کارکن ملبے تلے دبی امل خلیل کو نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے قصبے طیري پر حملہ کیا اور کچھ وقت کے لیے امدادی ٹیموں کی رسائی میں بھی رکاوٹ ڈالی۔
لبنانی ریڈ کراس کے اہلکاروں نے زخمی صحافی کو نکال کر تبنین کے اسپتال منتقل کیا جبکہ اسی حملے میں متعدد افراد زخمی اور کم از کم دو مزید شہری جاں بحق ہوئے۔
لبنانی وزیراعظم نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا اور امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ جنگ بندی نافذ ہے جس کا مقصد دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ واقعے پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جس میں اقوام متحدہ اور صحافیوں کے تحفظ کی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔