چین سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون نے غیر معمولی اور خطرناک پیشے کو اپنا کر نہ صرف اپنی پہچان بنائی بلکہ سالانہ کروڑوں روپے کما کر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔
چینی صوبے گوانگشی کے شہر گیولین سے تعلق رکھنے والی چن، جو 1995 میں پیدا ہوئیں، نے یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے دو سال بعد ایک غیر روایتی راستہ اختیار کیا۔ وہ اپنے آبائی علاقے واپس آئیں تاکہ اپنے والد کے سانپوں کے فارم میں ان کا ہاتھ بٹا سکیں۔
ابتدا میں ان کے والد اس بات کے حق میں نہیں تھے کہ ان کی بیٹی اس خطرناک پیشے میں قدم رکھے، کیونکہ سانپوں کی دیکھ بھال کو وہ انتہائی پرخطر سمجھتے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ فارم میں توسیع اور سانپوں کی بڑھتی تعداد کے باعث چن آہستہ آہستہ اس کام کا اہم حصہ بن گئیں۔
آج چن 60 ہزار سے زائد سانپوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں، جن میں 50 ہزار سے زیادہ نہایت زہریلے سانپ شامل ہیں جبکہ تقریباً 10 ہزار کوبرا بھی ان کے فارم میں موجود ہیں۔
اتنی بڑی تعداد میں خطرناک جانوروں کے درمیان کام کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں، مگر چن کا کہنا ہے کہ وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوتیں کیونکہ وہ بچپن سے ہی اس ماحول سے واقف ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان سانپوں کو مختلف روایتی ادویات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ان کے زہر کو طبی تحقیق کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سانپوں کا زہر 40 سے 200 یوآن فی گرام کے حساب سے فروخت ہوتا ہے، جبکہ ان کا گوشت 200 سے 300 یوآن تک فروخت کیا جاتا ہے۔
تمام اخراجات نکالنے کے بعد بھی چن سالانہ 10 لاکھ یوآن یعنی پاکستانی کرنسی میں 4 کروڑ روپے سے زائد کمائی کر لیتی ہیں، جو اس پیشے کو نہایت منافع بخش بناتا ہے۔
چن سوشل میڈیا پر بھی متحرک ہیں جہاں وہ اپنے تجربات اور معلومات لوگوں کے ساتھ شیئر کرتی ہیں۔ صارفین کے سوالات کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سانپ کے ڈسنے کا تجربہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے، مگر وہ اسے اپنے کام کا حصہ سمجھتی ہیں اور اس سے خوفزدہ نہیں ہوتیں۔
یہ کہانی نہ صرف ہمت اور محنت کی مثال ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ غیر روایتی راستے اختیار کر کے بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ انسان میں حوصلہ اور مستقل مزاجی موجود ہو۔