وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انرجی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی توانائی ضروریات اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انرجی سیکیورٹی اب ملک کی مجموعی منصوبہ بندی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے باوجود بروقت اقدامات اور توانائی کی بچت کے باعث کسی بڑے بحران سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ مستقبل کی توانائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خام تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کے قیام پر کام تیز کیا جائے۔ انہوں نے ذرائع آمد و رفت کو بتدریج ماحول دوست برقی گاڑیوں (EV) پر منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سرکاری استعمال کے لیے صرف برقی بسیں اور موٹر سائیکلیں خریدی جائیں۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ الیکٹرک وہیکلز کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کو تیز کیا جائے اور شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کے ذخیرے کے لیے بیٹریوں کے حصول کو آسان بنانے کی حکمت عملی تیار کی جائے۔ ساتھ ہی مقامی سطح پر اعلیٰ معیار کی بیٹریوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل روزانہ کی بنیاد پر توانائی کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ حکام کے مطابق ملک میں اس وقت پیٹرولیم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور غذائی سیکیورٹی کی صورتحال بھی مستحکم ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ تیل و گیس کمپنیوں کی کوششوں سے مقامی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ گرڈ سطح پر بیٹری اسٹوریج کے لیے دو تجرباتی منصوبوں کی تیاری جاری ہے۔ شمسی توانائی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو بھی بیٹری اسٹوریج اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، سردار اویس لغاری، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، احسن اقبال سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔