امریکی انٹیلی جنس ذرائع اور خفیہ حکام کی جانب سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایران کی عسکری طاقت امریکی حکومت کے دعوؤں کے برعکس اب بھی بڑی حد تک برقرار اور محفوظ ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، انٹیلی جنس معاملات سے واقف متعدد حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام، فضائیہ اور بحری قوت کا ایک بڑا حصہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا ہوا ہے اور آپریشنل حالت میں موجود ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی دفاعی و جارحانہ صلاحیتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے عوامی بیانات اور اندازوں سے کہیں زیادہ مستحکم ہیں۔ خفیہ حکام کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جنگ بندی کے باقاعدہ آغاز تک ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے وسیع ذخیرے اور ان کے لانچنگ نظام کا تقریباً نصف حصہ مکمل طور پر محفوظ رہا۔
اس کے علاوہ، رپورٹ میں پاسدارانِ انقلاب کی بحری قوت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس کا لگ بھگ 60 فیصد حصہ اب بھی سمندروں میں اپنی کارروائیوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں، اور یہ معلومات امریکی حکام کے ان سابقہ دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہیں جن میں ایرانی فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانے کی باتیں کی گئی تھیں۔