انڈونیشیا نے دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں میں سے ایک، آبنائے ملاکا سے گزرنے والے جہازوں پر فیس یا لیوی عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام اگر نافذ کیا گیا تو اس کے لیے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ باہمی مشاورت اور علاقائی سطح پر ہم آہنگی درکار ہوگی۔ مجوزہ منصوبے کا مقصد سمندری راستے کی نگرانی اور ممکنہ طور پر آمدنی میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔
تاہم اس تجویز نے ہمسایہ ممالک میں تشویش پیدا کردی ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے آزادانہ بحری نقل و حرکت اور بین الاقوامی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ملاکا عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں سے روزانہ بڑی تعداد میں تجارتی جہاز گزرتے ہیں۔
فی الحال انڈونیشی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کی تفصیلات اور ممکنہ نفاذ کے طریقہ کار پر غور جاری ہے۔