وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ موصول ہوگئی ہے اور اس میں نامزد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ انتہائی افسوسناک تھا جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متاثرین کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک کروڑ روپے فی خاندان امداد کا اعلان کیا گیا، جس میں 63 کیسز میں ادائیگی مکمل ہوچکی ہے، جبکہ ہر دکاندار کو فوری طور پر 5 لاکھ روپے دینے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ متاثرین کے لیے مجموعی طور پر 7 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے 200 متاثرین میں 511.7 ملین روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق کراچی چیمبر آف کامرس کے اعداد و شمار کے مطابق گل پلازہ میں 1209 دکانیں تھیں اور حکومت اس معاملے میں کسی کو ناجائز فائدہ اٹھانے نہیں دے گی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ گل پلازہ کی عمارت کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کابینہ میں پیش کی جاچکی ہے اور اس پر سفارشات مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ شاہراہ بھٹو کا افتتاح اگلے ماہ متوقع ہے، جبکہ یونیورسٹی روڈ کی تعمیر بھی جلد مکمل کرلی جائے گی۔