مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کے دوران ایک کم عمر فلسطینی طالب علم کی شہادت نے پوری تعلیمی اور انسانی دنیا کو سوگوار کردیا ہے۔ واقعے کے بعد اس کے استاد کی جانب سے جاری کیا گیا جذباتی پیغام اور طالب علم کا آخری امتحانی پرچہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، جس نے ہر دل کو غمزدہ کردیا۔
مقامی اور عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق نابلس کے علاقے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک پندرہ سالہ طالب علم یوسف سمیع عبدالرؤف شہید ہوگیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یوسف نے اپنی شہادت سے چند گھنٹے قبل ہی انگریزی کا امتحان دیا تھا، جو اس کی زندگی کا آخری تعلیمی لمحہ ثابت ہوا۔
شہید طالب علم کے استاد نے اپنے شاگرد کے امتحانی پرچے کو شیئر کرتے ہوئے انتہائی دردناک الفاظ میں اسے خراجِ تحسین پیش کیا۔ استاد نے لکھا کہ یوسف نے اپنی شہادت کے ذریعے بلند ترین مقام حاصل کرلیا ہے، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں ابدی سکون عطا فرمائے۔
استاد کے اس جذباتی پیغام اور طالب علم کے آخری امتحانی پرچے کی تصویر نے دیکھنے والوں کو اشکبار کردیا اور یہ منظر انسانی المیے کی ایک اور دردناک مثال بن کر سامنے آیا۔
اطلاعات کے مطابق اس سے قبل بھی اسی علاقے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں کے دوران تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ اور ایک استاد کی شہادت کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔
یہ واقعہ نہ صرف خطے میں جاری کشیدگی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ تعلیمی اداروں اور معصوم طلبہ کے تحفظ پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔