اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران گزشتہ دو ہفتوں کی اہم پیش رفت کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقوں، خصوصاً انگور اڈہ میں افغانستان کی جانب سے 26 اور 29 اپریل کو بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی گئی، جس میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں 3، 8 اور 10 سال کے بچے بھی شامل ہیں، جبکہ کئی مکانات کو نقصان پہنچا۔ مقامی عمائدین اور رہائشیوں نے ان واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سرحد پار فائرنگ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دفتر خارجہ نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ان کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی اور استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں اعلیٰ سطحی سفارتی روابط جاری رہے، جن میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو بھی شامل ہے۔ وزیر اعظم نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورے کیے جہاں علاقائی امن و استحکام پر مشاورت کی گئی۔
سعودی عرب میں ولی عہد محمد بن سلمان، قطر میں امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی جبکہ ترکیہ میں صدر رجب طیب اردوان سے ملاقاتوں میں پاکستان کے امن اقدامات کو سراہا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی مختلف عالمی رہنماؤں سے متعدد ملاقاتیں اور ٹیلیفونک رابطے کیے، جبکہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں علاقائی تعاون اور اقتصادی استحکام پر زور دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان ”آر-4“ گروپ کے تحت مشاورتی عمل جاری ہے، جس کا مقصد خطے میں امن اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔
فلسطین کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس میں مذہبی مقامات کی حیثیت تبدیل کرنے اور مسجد اقصیٰ میں مداخلت کی شدید مذمت کی ہے۔
آخر میں ترجمان نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری اس وقت چین کے دورے پر ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا یہ دورہ اعلیٰ سطح کے روابط کی طویل روایت کا حصہ ہے۔
مزید برآں ترجمان کی جانب سے میڈیا کو فراہم کردہ تازہ معلومات کے مطابق یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں زیر حراست پاکستانیوں سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 27 پاکستانی شہری آج یوگنڈا سے پاکستان روانہ ہورہے ہیں، جبکہ مزید تقریباً 30 افراد بھی جلد اپنی واپسی کے لیے ٹکٹوں کا انتظام کر رہے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ باقی پاکستانی شہری، جو وزٹ ویزا پر یوگنڈا میں موجود ہیں، وہ بھی مرحلہ وار وطن واپس روانہ ہوجائیں گے۔ یوگنڈا کی امیگریشن حکام کی جانب سے ان افراد پر مالی جرمانہ عائد کیا گیا ہے، تاہم پاکستانی سفارتخانے کی ٹیم اس معاملے پر یوگنڈا کے حکام سے رابطے میں ہے تاکہ جرمانوں میں ممکنہ رعایت یا معافی حاصل کی جاسکے۔
ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر مزید پیش رفت سے بھی آگاہ کیا جاتا رہے گا۔