امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کا جلد جائزہ لیا جائے گا، تاہم حتمی معاہدے سے متعلق فیصلہ ابھی باقی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے غلط رویہ اختیار کیا تو اس کے خلاف فوجی کارروائی کا امکان بدستور موجود ہے۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بنیادی نکات سے آگاہ کیا گیا ہے، لیکن وہ خود اس کی حتمی اور مکمل عبارت کا جائزہ لیں گے۔ ان کے مطابق ایران نے اب تک اپنے اقدامات کی بڑی قیمت ادا نہیں کی اور موجودہ صورتحال کو قابلِ قبول قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگرچہ کسی بھی ممکنہ جنگ کا خاتمہ جلد بھی ہوجائے تو اس کے بعد تعمیرِ نو کے عمل میں دو دہائیاں لگ سکتی ہیں اور کوئی بھی فریق دوبارہ اسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف موجودہ پابندیاں اور اقدامات مؤثر انداز میں جاری ہیں، جنہیں انہوں نے فرینڈلی ناکہ بندی قرار دیا۔