امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا پیر سے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو نکالنے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کرے گا۔
ٹرمپ نے اس اقدام کو ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ ناکہ بندی میں نرمی ایک انسانی ہمدردی کا قدم ہے، کیونکہ متعدد جہازوں پر خوراک اور ضروری اشیاء کی قلت پیدا ہو چکی ہے، جس سے عملے کی زندگی خطرے میں ہے۔
امریکی صدر کے مطابق نمائندوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایرانی حکام کو واضح کیا جائے کہ امریکا نیوٹرل ممالک کے جہازوں اور عملے کے محفوظ انخلا کو یقینی بنائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی، ایران کی غیر اعلانیہ پابندی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
تین ہفتوں سے جاری نازک جنگ بندی کے باوجود خطے میں تناؤ برقرار ہے، جبکہ امریکا میں پیٹرول کی قیمت 4.44 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جس سے مہنگائی اور عوامی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔