استحکامِ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا ہے کہ کانفرنس کا مقصد سید عاصم منیر اور افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ سال مئی میں دشمن کی جانب سے ”پہلگام کا جھوٹا واقعہ“ گھڑنے کی کوشش کی گئی، تاہم پاکستان کی بہادر افواج نے بھرپور اور مؤثر جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معرکے میں افواجِ پاکستان نے دنیا کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ اس کامیابی میں افواجِ پاکستان کی قیادت نے کلیدی کردار ادا کیا اور قوم کو ایک عظیم کامیابی نصیب ہوئی جسے پوری دنیا نے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا گیا اور یہ کامیابی قومی اتحاد کا نتیجہ تھی۔
انہوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا وہ قوم کے ہیرو ہیں، جبکہ غازیوں کی جرات اور بہادری کو بھی سلام پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی رہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہندوستان کی جانب سے دوبارہ کسی قسم کی جارحیت کی کوشش کی گئی تو اس کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وطنِ عزیز پاکستان سب سے مقدم ہے اور اس کی حفاظت ہر شہری کا اولین فرض ہے۔
مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا اور اب اس کو مضبوط بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قومی یکجہتی نہ ہوتی تو دشمن کو مؤثر جواب دینا ممکن نہ ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ افواجِ پاکستان کے پیچھے پوری قوم کی دعائیں تھیں جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی۔ ان کے مطابق آج پاکستان حقیقی معنوں میں علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر بنتا نظر آ رہا ہے۔
خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان آج دنیا میں امن کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اور عالمی سطح پر اس کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکہ کے درمیان تنازع کو کم کرنے میں مثبت کردار ادا کیا۔
آخر میں انہوں نے شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی قیادت نے امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔