ایران جنگ: دبئی کے مصروف ترین ہوائی اڈے پر مسافروں کی آمدورفت میں 66 فیصد کمی

image

متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں قائم دنیا کے مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایران سے جاری کشیدگی اور جنگی حالات کے اثرات نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں، جہاں مارچ کے مہینے میں مسافروں کی آمد و رفت میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی۔

سرکاری بیان کے مطابق اس عرصے کے دوران فضائی ٹریفک میں تقریباً 66 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ خطے میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملے تھے۔

دبئی حکام نے وضاحت کی کہ یہ حملے صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہے بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے باعث فضائی آپریشنز بھی شدید متاثر ہوئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں فضائی حدود کی بندش، پروازوں کے شیڈول میں بار بار تبدیلیاں اور سفری نظام میں وسیع پیمانے پر خلل پیدا ہوا، جس نے مسافروں کی تعداد میں واضح کمی کا سبب بنایا۔

دبئی میڈیا آفس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں مسافروں کی تعداد کم ہو کر تقریباً 2.5 ملین رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ تعداد کہیں زیادہ تھی۔ دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ، جو کہ عالمی سطح پر ایک اہم ٹرانزٹ حب سمجھا جاتا ہے اور جہاں سے یو اے ای کی قومی ایئرلائن ایمریٹس اپنی بیشتر بین الاقوامی پروازیں چلاتی ہے، اس بحران سے خاص طور پر متاثر ہوا۔

حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد اب صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے اور متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ دبئی کے تمام ہوائی اڈے معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور آپریشنز کو بتدریج بڑھایا جا رہا ہے تاکہ مسافروں کو درپیش مشکلات کم کی جاسکیں۔

یاد رہے کہ ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا، جس کے دوران متحدہ عرب امارات کو متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دبئی ایئرپورٹ بھی ان حملوں سے محفوظ نہ رہ سکا اور کئی مواقع پر ڈرونز کے ذریعے اسے نشانہ بنایا گیا۔

گزشتہ برس دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ نے 95.2 ملین مسافروں کے ساتھ ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جبکہ رواں سال اس تعداد کے تقریباً 99.5 ملین تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی تھی۔ تاہم موجودہ جنگی صورتحال کے باعث ان توقعات کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور اب اس ہدف کا حصول مشکل دکھائی دے رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US