وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جاری اصلاحات کے حوالے سے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس نظام کی بہتری اور تنازعات کے حل کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو ٹیکس مقدمات کے لیے قائم ٹاسک فورس کی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں اصلاحاتی پیش رفت اور آئندہ لائحہ عمل شامل تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں جاری ڈیجیٹائزیشن اور اصلاحاتی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے ٹاسک فورس کے سربراہ شاد محمد خان اور دیگر اراکین کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
وزیراعظم نے ٹاسک فورس کی جانب سے پیش کیے گئے ایکشن پلان کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اسے واضح ٹائم لائنز کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ انہوں نے ٹیکس تنازعات کے جلد حل کے لیے متبادل تنازعہ حل نظام (ADR) کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ اے ڈی آر نظام سے عدالتی بوجھ میں کمی اور ٹیکس مقدمات کے فیصلوں میں تیزی آئے گی۔ وزیراعظم نے مرکزی سطح پر کیسز کے مؤثر انتظام کے لیے مجوزہ سینٹرلائزڈ لیٹیگیشن مینجمنٹ سسٹم (CLMS) جلد قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
مزید ہدایت کی گئی کہ ایف بی آر کے قانونی ونگ میں ضرورت کے مطابق بہترین افرادی قوت تعینات کی جائے اور تمام تقرریوں میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹاسک فورس کے مجوزہ ایکشن پلان میں کیس سکروٹنی کمیٹیوں کی تشکیل، افسران کی کارکردگی کو مقدمات کے نتائج سے منسلک کرنے اور ٹیکس تنازعات کے ڈیٹا کے مؤثر انتظام کے لیے ڈیجیٹل نظام شامل ہے۔
مزید بتایا گیا کہ اے ڈی آر فورم کے ذریعے رواں سال اب تک 24 ارب روپے قومی خزانے میں جمع ہوچکے ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور ٹیکس اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔