ایران افزودہ یورینیئم بیرونِ ملک منتقل کرنے پر رضامند، امریکی میڈیا کا دعویٰ

image

امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک کے لیے ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت تیار کرلی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق فریقین اس معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب آچکے ہیں جبکہ آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے اہم نکات پر حتمی جواب متوقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ معاہدے کو حتمی شکل دی جاسکے۔

مجوزہ 14 نکاتی فارمولا کے تحت معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی جنگ کے خاتمے کا اعلان، 30 دن کے اندر اسلام آباد یا جنیوا میں تفصیلی مذاکرات، آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں کمی اور ایران کے ایٹمی پروگرام پر عارضی پابندیاں شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران 12 سے 15 سال تک یورینیئم افزودگی محدود کرنے پر غور کر رہا ہے جبکہ امریکا 20 سال تک کی پابندی چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی جانب سے افزودہ یورینیئم بیرونِ ملک منتقل کرنے اور اس کے بدلے میں امریکا کی طرف سے منجمد اثاثے جاری کرنے اور پابندیوں میں نرمی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

دوسری جانب مارکو روبیو نے اس پیش رفت کو انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ سفارتی حل کی امید موجود ہے تاہم اعتماد کی فضا ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ تاحال کسی معاہدے پر باضابطہ دستخط نہیں ہوئے جبکہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں امریکا نے بحری محاصرہ اور ممکنہ فوجی کارروائی کا آپشن برقرار رکھا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US