امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ بحال ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جبکہ اطلاعات ہیں کہ مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی آئندہ ہفتے پاکستان کر سکتا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی بحالی کے لیے متحرک ہے اور حالیہ پیش رفت کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریق کئی اہم معاملات پر پیش رفت حاصل کر چکے ہیں اور تنازع سے متعلق بیشتر نکات پر اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات اب بھی حل طلب ہیں۔ یہی مسئلہ کسی حتمی معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں تیزی آ گئی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورۂ چین سے قبل، یعنی 14 یا 15 مئی تک دونوں ممالک کے درمیان کسی ابتدائی معاہدے پر پیش رفت ہو سکتی ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ مذاکرات کی بحالی سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع میں کمی آئے گی اور خطے میں استحکام کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ مبصرین کے مطابق آئندہ چند روز اس حوالے سے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔