ایک آنکھ چھن گئی مگر حوصلہ نہ ٹوٹا، فلسطینی خاتون نے اپنے زخموں کو آرٹ میں بدل دیا

image

غزہ کے پناہ گزین کیمپ میں رہنے والی خاتون عریج الصفین نے اسرائیلی فوجی حملے میں ایک آنکھ کھونے کے بعد اپنے درد کو فن کے ذریعے بیان کرنا شروع کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بریج پناہ گزین کیمپ میں اپنے گھر کی دیواروں پر وہ کوئلے سے ایسی تصویریں بناتی ہیں جو جنگ کے دکھ، انسانی تکلیف، حوصلے اور بقا کی داستان سناتی ہیں۔

خاتون کے مطابق وہ جنگ سے قبل مختلف انداز میں آرٹ تیار کرتی تھیں، لیکن زخمی ہونے کے بعد صرف آنکھیں بناتی ہوں۔

عریج الصفین کے فن پارے غزہ میں جاری تباہی اور انسانی المیے کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں مسلسل حملوں کے باعث لاکھوں افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ وہ اپنی تخلیقات کے ذریعے نہ صرف اپنی ذاتی اذیت کو بیان کر رہی ہیں بلکہ جنگ سے متاثرہ عوام کے جذبات اور نقصانات کو بھی دنیا کے سامنے لا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ غزہ میں جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد ہوا تھا، جس میں 1,221 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس کے جواب میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 72600 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق یہ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ بھی ان اعداد کو قابلِ اعتماد قرار دے چکی ہے۔

مسلسل بمباری اور فوجی کارروائیوں کے باعث غزہ کی 24 لاکھ آبادی کا بڑا حصہ بے گھر ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں عریج الصفین جیسے فنکار اپنے فن کے ذریعے جنگ کے اثرات، انسانی نقصان اور بقا کی جدوجہد کو محفوظ کر رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US