پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کے تحت اربوں ڈالر کے نئے معاہدوں کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے جس کے لیے چین کا 52 رکنی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاک چین تجارت، ڈیجیٹل معیشت اور صنعتی اشتراک کے لیے مشترکہ اکنامی ہیڈکوارٹر قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔
یہ ہائی پروفائل چینی وفد 8 سے 14 مئی تک پاکستان کے مختلف شہروں کا دورہ کرے گا جس میں اسلام آباد، لاہور اور کراچی شامل ہیں۔ اس دوران بی ٹو بی ملاقاتوں اور اہم تجارتی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔
پاک چائنا بزنس کونسل کے مطابق وفد ای کامرس، ٹیلی کام، سولر اور انرجی سیکٹر میں اہم معاہدے کرے گا جبکہ ڈیجیٹل اکانومی پروگرام کے تحت انجینئرنگ، کیمیکل، ٹیکسٹائل اور بلڈنگ میٹریل کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ الیکٹرک وہیکلز، میڈیکل آلات اور صنعتی مشینری کے شعبے میں بھی بڑے معاہدوں کی توقع ہے۔ وفد کی ملاقاتیں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری سمیت کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے چیمبرز سے بھی طے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس دورے میں حکومتوں کے درمیان جی 2 جی معاہدے بھی متوقع ہیں جو پاک چین اقتصادی تعاون کو نئی سمت دیں گے۔