پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی ادارے سے ایک اور بڑی مالی پیش رفت متوقع ہے جہاں آج ہونے والے اہم اجلاس میں آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر منظوری مل گئی تو یہ رقم جلد اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی جائے گی، جس سے ملکی زرمبادلہ ذخائر کو سہارا مل سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آج منعقد ہورہا ہے جس میں پاکستان کی معاشی کارکردگی اور پروگرام کے تحت کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے طے شدہ کئی اہم شرائط پوری کرلی ہیں، اسی لیے قسط کی منظوری کے امکانات مضبوط سمجھے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقرر 17 اہداف میں سے 13 مکمل کرلیے ہیں۔ بنیادی بجٹ خسارے کو طے شدہ حد میں رکھا گیا جبکہ صوبائی سطح پر ٹیکس وصولیوں کا ہدف بھی حاصل کرلیا گیا۔ اس کے علاوہ حکومتی ضمانتوں کو محدود رکھنے کی شرط پر بھی عمل کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق اسٹیٹ بینک نے حکومت کو نیا قرض فراہم نہیں کیا، جو آئی ایم ایف کی اہم شرائط میں شامل تھا۔ باقی اہداف کے لیے ادارے نے جون 2026 تک کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مارچ میں اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا۔ اس وقت پاکستان 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ کے تحت مالی معاونت حاصل کررہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ای ایف ایف پروگرام کا تیسرا جائزہ پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے جبکہ دوسرے جائزے کے بعد پاکستان کو اضافی 21 کروڑ ڈالر ملنے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔
معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر آج قسط کی منظوری ہوجاتی ہے تو اس سے نہ صرف بیرونی ذخائر میں بہتری آئے گی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔