ایک حالیہ سروے کے مطابق 63 فیصد امریکی شہریوں نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ اضافے کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو قرار دے دیا ہے۔
این آر پی، پی بی ایس نیوز اور میریسٹ پول کے اشتراک سے 27 سے 30 اپریل تک کیے گئے اس سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ہر 10 میں سے 8 امریکی پیٹرول کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے گھریلو بجٹ پر غیر معمولی بوجھ پڑ رہا ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق 81 فیصد عوام قیمتوں میں اضافے سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ صرف 19 فیصد ایسے ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہیں ان قیمتوں سے کوئی فرق نہیں پڑا۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جہاں 63 فیصد نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو اس اضافے کی وجہ قرار دیا، وہیں 37 فیصد عوام انہیں اس کا کم ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں گیسولین کی قیمتیں بڑھ کر 4 ڈالر 56 سینٹ فی گیلن تک پہنچ گئی ہیں جو ایران جنگ کے آغاز سے قبل 2 ڈالر 98 سینٹ فی گیلن کی سطح پر تھیں۔