ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں تاہم اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو ملک اپنے دفاع کے لیے پوری طاقت سے لڑنے کے لیے تیار ہے۔
برکس وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا بلکہ سفارت کاری، مذاکرات اور علاقائی استحکام کے فروغ پر یقین رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران ہمیشہ سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا آیا ہے۔
عباس عراقچی نے برکس ممالک اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف غیر قانونی جارحیت کی کھل کر مذمت کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن اور معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے نقطۂ نظر سے یہ اہم بحری راستہ تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلا ہے تاہم جہازوں کو ایرانی بحری افواج کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا تاکہ خطے میں سیکیورٹی اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی قوم امن پسند ہے اور جنگ نہیں چاہتی لیکن اگر ایران کی خودمختاری یا قومی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔