یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ میں جہاں جدید ڈرون ٹیکنالوجی تباہی پھیلا رہی ہے، وہیں ایک 12 سالہ بچے نے اپنی حاضر دماغی اور غیر معمولی ہمت سے ممکنہ سانحہ ٹال کر سب کو حیران کر دیا۔ یوکرین کے سرحدی علاقے میں رہنے والے اناطولی پروخورینکو نے ایک خطرناک ڈرون کو اس وقت ناکارہ بنا دیا جب وہ اس کے بہن بھائیوں سمیت کئی بچوں کی جانب بڑھ رہا تھا۔
اناطولی شمالی یوکرین کے علاقے چيرنی ہيف کے ایک دیہی گاؤں میں رہتا ہے جو روسی سرحد سے صرف چند میل دور واقع ہے۔ جنگ کے باعث اس خطے میں ڈرون حملے روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں اور مقامی لوگ مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
واقعے کے روز اناطولی اپنے پڑوسی کے باغ میں ایک درخت پر چڑھ کر شاخ کاٹ رہا تھا کہ اچانک اسے ڈرون کی مخصوص آواز سنائی دی۔ اس نے دیکھا کہ ایک سیاہ کواڈ کاپٹر نچلی پرواز کرتے ہوئے قریب آرہا ہے۔ چند لمحوں بعد اسے اندازہ ہوا کہ ڈرون زمین پر کھیلتے بچوں کو نشانہ بنانے والا ہے، جن میں اس کے اپنے چھوٹے بہن بھائی بھی شامل تھے۔
اسی دوران اسے چند ماہ پہلے ایک یوکرینی فوجی سے ہونے والی ملاقات یاد آگئی۔ اناطولی اپنے والد کے ساتھ جنگل میں لکڑیاں جمع کر رہا تھا جب اس کی ملاقات ایک فوجی سے ہوئی جس کا کوڈ نیم “ڈائنامو” تھا۔ فوجی نے اسے فائبر آپٹک تار کے بارے میں بتایا تھا جو ڈرونز کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس نے بچے کو یہ بھی سکھایا تھا کہ مخصوص انداز میں اس باریک تار کو کیسے توڑا جا سکتا ہے تاکہ ڈرون اپنے آپریٹر سے رابطہ کھو دے۔
خطرے کو بھانپتے ہی اناطولی نے ڈرون کے پیچھے لٹکتی باریک فائبر آپٹک تار پر نظر جما لی۔ پھر وہ فوراً درخت سے اترا اور دوڑ کر اس تار کو پکڑ لیا۔ اگرچہ اسے مکمل احتیاط کے تحت 15 سیکنڈ انتظار کرنا تھا، لیکن وقت کم ہونے کی وجہ سے اس نے چند سیکنڈ بعد ہی فوجی کی بتائی ہوئی تکنیک استعمال کرتے ہوئے تار توڑ دی۔
جیسے ہی رابطہ منقطع ہوا، ڈرون بے قابو ہو کر بچوں کی سمت جانے کے بجائے قریب موجود دلدلی علاقے میں جا گرا۔ اس طرح ایک ممکنہ حملہ ناکام ہوگیا اور کئی بچوں کی جانیں بچ گئیں۔
امریکی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے فوجی “ڈائنامو” نے کہا کہ یہ انتہائی حیران کن بات ہے کیونکہ ایسی کارروائیاں عموماً تجربہ کار فوجیوں کے لیے بھی آسان نہیں ہوتیں، مگر ایک بچے نے چند لمحوں میں یہ کام کر دکھایا۔
رپورٹس کے مطابق روس اور یوکرین کی جنگ میں گزشتہ دو برسوں سے عام شہریوں کو سستے ایف پی وی ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر خرسون کے علاقے میں سائیکل سواروں، پیدل چلنے والوں اور عام آبادی پر ایسے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اقوامِ متحدہ کی 2025 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ان حملوں کے نتیجے میں ہر ماہ درجنوں شہری مارے اور سیکڑوں زخمی ہو رہے ہیں۔
ابتدا میں یوکرین نے ریڈیو سگنلز جام کرنے والی ٹیکنالوجی سے ان ڈرونز کا مقابلہ کیا، تاہم بعد میں روس نے فائبر آپٹک ٹیکنالوجی والے ڈرونز متعارف کرا دیے جنہیں جام کرنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ براہِ راست باریک تار کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد اناطولی کو پورے یوکرین میں ایک بہادر بچے کے طور پر سراہا گیا، لیکن شہرت کے ساتھ خطرات بھی بڑھ گئے۔ روسی ٹیلی گرام چینلز پر اس کے خاندان کو دھمکیاں ملنے لگیں، جس کے بعد حفاظتی خدشات کے پیشِ نظر ان کے خاندان کو اپنا آبائی گاؤں چھوڑ کر چيرنی ہيف شہر منتقل ہونا پڑا۔
یہ واقعہ جنگ کی اس تلخ حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ ایسے علاقوں میں جہاں بچوں کو تعلیم اور کھیل کود میں مصروف ہونا چاہیے، وہاں انہیں اپنی بقا کے لیے جنگی خطرات سے نمٹنے کی مہارتیں سیکھنا پڑ رہی ہیں۔