اسرائیل اپنے قریبی اتحادی امریکا کو کھو سکتا ہے، بین الاقوامی سروے رپورٹ میں انکشاف

image

امریکا میں غزہ جنگ اور اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف نوجوانوں میں مخالفت کی لہر تیزی سے بڑھنے لگی ہے، خصوصاً یونیورسٹی طلبہ اور نوجوان ووٹرز کھل کر اسرائیل مخالف مظاہروں اور مہمات میں حصہ لے رہے ہیں۔

اسرائیل کے ایک معتبر اور بااثر ادارے انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق امریکی سرزمین اسرائیل کے لیے تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ یہ ادارہ اسرائیل کے دفاع اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ اس ادارے کی تحقیقات کو اسرائیل کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں سنجیدگی سے پڑھا اور سمجھا جاتا ہے۔ یہ سروے رپورٹ اپریل 2026 میں منظر عام پر آئی ہے۔

انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کی کے ایک محقق کے مطابق وہ امریکا جو کئی دہائیوں سے اسرائیل کا سب سے بڑا حامی بنا رہا ہے، اب وہاں کی زمین اسرائیل کے لیے تنگ ہوتی جارہی ہے۔

اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر مستقبل میں اسرائیل نے اپن روش نہ بدلی تو وہ اپنا سب سے مضبوط اور قریبی اتحادی امریکا سے محروم ہوجائے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2022 میں صرف 42 فیصد امریکی اسرائیل سے متعلق منفی رائے رکھتے تھے، یہ تعداد 2025 میں بڑھ کر 53 فیصد ہوچکی ہے اور رواں برس 2026 میں یہ 60 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا کی اکثریت اسرائیل کو نا پسندیدہ ملک سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس اسرائیل کے حق میں بات کرنے والوں کی تعداد کبھی 55 فیصد تھی، اب گھٹ کر صرف 37 فیصد رہ گئی ہے۔

ہارورڈ کینیڈی اسکول کے ہارورڈ یوتھ پول میں سامنے آیا کہ 18 سے 29 سال کے 46 فیصد نوجوان امریکی اسرائیل کے ساتھ امریکی تعلقات کو امریکہ کے لیے بوجھ سمجھتے ہیں، جبکہ صرف 16 فیصد نے اسے فائدہ مند قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا، غزہ سے آنے والی ویڈیوز اور انسانی بحران کی تصاویر نے امریکی نوجوانوں کی رائے پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سیاست میں بھی اسرائیل کے حوالے سے نوجوان ووٹرز اور پرانی نسل کے درمیان واضح اختلاف سامنے آ رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US