غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد اسرائیل اور امریکا ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جبکہ حملے آئندہ ہفتے شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف اب تک کی سب سے شدید عسکری تیاریوں پر کام کر رہے ہیں۔ ممکنہ آپشنز میں ایران کے فوجی اڈوں اور اہم انفرا اسٹرکچر پر شدید بمباری، خلیج فارس میں واقع ایران کے بڑے تیل برآمدی مرکز خارگ آئی لینڈ پر قبضہ، اور جوہری مواد حاصل کرنے کے لیے کمانڈوز کی تعیناتی شامل بتائی جا رہی ہے۔
ادھر ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے اسرائیلی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل فوری جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اب امریکی صدر کے ایران سے مذاکرات کے حوالے سے حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری میں تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ ممکنہ فوجی تصادم کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔