ایرانی سیاسی و عسکری عہدیدار ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے ایک نیا انتظامی نظام تیار کرلیا گیا ہے، جس کی تفصیلات جلد عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس نئے نظام سے وہ ممالک فائدہ اٹھا سکیں گے جو ایران کے ساتھ تعاون کریں گے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس بھی وصول کی جائے گی۔
ابراہیم عزیزی نے مزید واضح کیا کہ امریکا کے پروجیکٹ فریڈم میں شامل فریقین کے لیے آبنائے ہرمز بند رہے گی۔
آبنائے ہرمز آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں عالمی توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔