سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بی آر ٹی ریڈ لائن کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمہ انمول عرف پنکی زہر بیچتی تھی اور اس کا پورا ایک نیٹ ورک ہے، بدقسمتی سے ملک بھر میں منشیات کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا جو اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
انہوں نے میڈیا سے گزارش کی کہ منشیات فروشی کو گلیمرائز نہ کیا جائے کیونکہ اس سے روز قیمتی جانیں جاتی ہیں، جبکہ والدین پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کئی بحالی مراکز پر کام کر رہی ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے شرجیل میمن نے واضح کیا کہ عدالتی آرڈر کے باوجود بی آر ٹی ریڈ لائن کا کام ایک سیکنڈ بھی نہیں رکے گا اور 23 مئی کو شاہراہِ بھٹو کا مکمل افتتاح کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے مصروف اور گنجان آباد شہر میں کام کرنا مشکل ہے، تاہم کوشش ہے کہ اگست تک مکسڈ ٹریفک لین کا کام مکمل کرلیا جائے۔
سینئر وزیر نے مزید کہا کہ تنقید کرنے والے سیاست کرتے رہیں، حکومت کراچی میں اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتالوں، جامعات اور عوامی منصوبوں پر کام جاری رکھے گی، جیسے پہلے بھی ملک کی پہلی پنک بس اور پنک اسکوٹی کا آغاز سندھ حکومت نے ہی کیا۔