انمول پنکی کیس کی جیل میں سماعت، اہم شخصیات کے نام لینے کی کوشش پر ہنگامہ آرائی

image

منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کی پیشی سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے سیکیورٹی خدشات کے باعث کیس کی سماعت سٹی کورٹ کے بجائے سینٹرل جیل میں قائم خصوصی عدالت منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کو تین مختلف مقدمات میں سٹی کورٹ میں پیش کیا جانا تھا، تاہم اب انہیں سخت سیکیورٹی میں سینٹرل جیل منتقل کیا جائے گا جہاں مقدمات کی سماعت ہوگی۔ اس سلسلے میں ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کی درخواست منظور کرتے ہوئے سیشن جج کراچی ساؤتھ ظہور احمد ہکڑو نے باضابطہ حکم جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر حساس نوعیت کے مقدمات کی سماعت جیل کے اندر قائم عدالت میں کرنا ضروری ہے۔

پولیس حکام کے مطابق تھانہ بغدادی میں درج مقدمہ نمبر 147/2026 قتل کی دفعہ 302 کے تحت درج ہے جبکہ ملزمہ دیگر سنگین مقدمات میں بھی مطلوب ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پنکی کو سخت حفاظتی اقدامات کے تحت عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب درخشاں پولیس نے ڈیوٹی مجسٹریٹ کی جانب سے ملزمہ کو جسمانی ریمانڈ نہ دینے اور جیل بھیجنے کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے۔ پولیس نے مؤقف اپنایا ہے کہ انمول عرف پنکی ایک انتہائی چالاک اور منظم نیٹ ورک چلانے والی ملزمہ ہے، اس لیے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ ناگزیر ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ مجسٹریٹ کے فیصلے میں قانونی خامیاں موجود ہیں اور تفتیش مکمل کرنے کے لیے ملزمہ کا ریمانڈ دیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت میں پیشی کے دوران شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی تھی۔ ملزمہ نے میڈیا کے سامنے پولیس پر جھوٹے مقدمات بنانے، زبردستی بیانات لینے اور غیر قانونی حراست میں رکھنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ انمول عرف پنکی کا کہنا تھا کہ انہیں لاہور سے گرفتار کر کے کئی روز تک غیر قانونی طور پر رکھا گیا اور بعد میں پولیس کے حوالے کیا گیا۔

ملزمہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس پر زبردستی منشیات ڈالنے کی کوشش کی گئی اور اس سے مخصوص شخصیات کے نام لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس نے یہ الزام بھی لگایا کہ اگر اس نے پولیس کے بتائے گئے نام نہ لیے تو اس کے اہل خانہ کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ پیشی کے دوران خاتون پولیس اہلکار اور ملزمہ کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔

تاہم تفتیشی افسر نے عدالت میں ملزمہ کے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انمول عرف پنکی ایک منظم منشیات نیٹ ورک چلا رہی تھی اور گرفتاری کے بعد خود کو بچانے کے لیے بیانات تبدیل کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ گزشتہ پندرہ برس سے منشیات کے دھندے میں سرگرم تھی اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں کوکین سپلائی کے نیٹ ورک سے منسلک رہی۔

تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ انمول عرف پنکی کو مبینہ طور پر اس کے سابق شوہر ناصر نے کوکین تیار کرنے اور سپلائی کے طریقہ کار سے متعارف کرایا تھا۔ پولیس کے مطابق ناصر اپنے بھائیوں منصور اور شہروز، ایک دوست عرفان اور بہنوئی کے ساتھ مل کر اس غیر قانونی کاروبار میں شامل تھا۔ ابتدا میں انہوں نے گیسٹ ہاؤسز اور شراب کے کاروبار سے آغاز کیا اور بعد میں کوکین سپلائی کا نیٹ ورک قائم کر لیا۔

پولیس حکام کے مطابق انمول اور اس کا سابق شوہر لاہور، کراچی اور دیگر شہروں میں منشیات سپلائی کرتے رہے، جبکہ بعد ازاں یہ نیٹ ورک کراچی منتقل کر دیا گیا۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سال 2021 میں انمول نے مبینہ طور پر ایک سابق انسپکٹر رانا اکرم کے مشورے پر اپنے شوہر ناصر سے علیحدگی اختیار کی تھی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US