جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے ملک بھر میں نافذ پیٹرولیم لیوی اور نئی متعارف کرائی گئی کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کردی۔
ایڈووکیٹ عمران شفیق کے ذریعے دائر آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اب محض ایک محدود ریگولیٹری سرچارج نہیں رہی بلکہ عملی طور پر ٹیکس کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کو پارلیمنٹ کی منظوری کے بجائے مسلسل ایگزیکٹو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے نافذ کر رہی ہے، جو آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق فنانس ایکٹ 2025 کے تحت پیٹرولیم لیوی پر عائد قانونی حد بھی ختم کر دی گئی ہے، جبکہ ماضی میں اس کی حتمی شرح کا تعین پارلیمان کرتی تھی۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے نفاذ کے قانونی و آئینی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔