وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سگریٹ پر عائد ٹیکس میں مبینہ طور پر 60 فیصد تک چوری کی جاتی ہے، اور اس میں ملوث افراد ماضی اور حال دونوں میں بااثر عہدوں پر موجود رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر آج بھی بڑے ایوانوں میں بیٹھے ہیں اور جب ان معاملات پر کارروائی کی کوشش ہوتی ہے تو انکوائری کے اداروں کی قیادت بھی بعض اوقات انہی افراد کے پاس رہی ہے۔
خواجہ آصف کے مطابق ماضی میں پہاڑی علاقوں کے اس پار ان کی بڑی فیکٹریاں موجود تھیں، جہاں کارروائیاں بھی ہوئیں، تاہم بعد ازاں یہ نیٹ ورک مختلف علاقوں تک پھیل گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب یہ سرگرمیاں مختلف شہروں تک پھیل چکی ہیں، اور ان کے اپنے حلقے ڈسکہ تحصیل میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں، جہاں مبینہ طور پر ایک پولٹری فارم میں مشینری نصب کر کے یہ کام کیا جا رہا ہے۔
وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ جہاں بھی یہ سرگرمیاں ہوتی ہیں وہاں زمین مالکان کو مبینہ طور پر منافع میں 30 سے 40 فیصد حصہ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر مسلسل اور سخت کریک ڈاؤن کیا جانا چاہیے۔